جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 20:28
بصیرت کے بغیر حق و باطل کی پہچان ممکن نہیں؛ ظاہری اسلامی نعروں کے بجائے کردار کو دیکھا جائے: مولانا سید عباس باقری

حوزہ/ خطیبِ جمعہ املاپورم مولانا سید عباس باقری نے خطبۂ جمعہ میں بصیرت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حق و باطل کی پہچان ظاہری مذہبی نعروں اور شناخت سے نہیں، بلکہ افراد اور حکومتوں کے عملی کردار سے ہوتی ہے۔ انہوں نے تاریخِ اسلام کی جنگوں اور حضرت عمار بن یاسرؓ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ مومن کو حالات کی حقیقت سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے بعض مسلم ممالک کے حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایران اور فلسطین کے حوالے سے ان کے کردار کو بصیرت کے معیار پر پرکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، املاپورم،9 اکتوبر/ آندھراپردیش کے شہر املاپورم میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے خطیبِ جمعہ، صدر آندھراپردیش شیعہ علماء بورڈ اور آندھراپردیش گورنمنٹ شیعہ قاضی مولانا سید عباس باقری نے بصیرت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جو شخص بصیرت نہیں رکھتا، وہ صحیح معنوں میں ایمان کے تقاضوں کو سمجھنے اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے سے محروم رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ظاہری صورتوں، مذہبی نعروں اور دعوؤں سے متاثر ہونے کے بجائے حقیقت کو پہچانے اور اپنے فیصلے بصیرت کی بنیاد پر کرے۔

مولانا نے اپنے خطاب میں قرآنِ مجید کی سورۂ انعام کی آیت نمبر 104 تلاوت کرتے ہوئے فرمایا: قَدْ جَاءَكُم بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا

ترجمہ: ’’تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی جانب سے روشن دلائل آچکے ہیں؛ پس جو بصیرت سے کام لے گا، اس کا فائدہ خود اسی کے لیے ہے اور جو اندھا بن جائے گا، اس کا نقصان بھی اسی پر ہوگا۔‘‘

آیتِ کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لفظ ’’بَصَائِر‘‘، ’’بَصِيرَة‘‘ کی جمع ہے، جس سے مراد دلائل، کھلی نشانیاں اور روشن ثبوت ہیں۔ بصیرت کا مادہ ’’البصر‘‘ ہے، جس کے معنی دیکھنے کے ہیں۔ اسی سے بصارت اور بصیرت کے الفاظ وجود میں آئے ہیں۔ تاہم، بصارت اور بصیرت میں بنیادی فرق ہے۔ بصارت سے مراد ظاہری آنکھوں سے دیکھنا ہے، جب کہ بصیرت سے مراد عقل اور قلب کی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھنا اور اس کی صحیح معرفت حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بصارت صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ جانور اور پرندے بھی دیکھتے ہیں، بلکہ بعض جانوروں اور پرندوں کی دیکھنے کی صلاحیت انسانوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن بصیرت ایک ایسی صلاحیت ہے جو عقل و شعور کے ذریعے انسان کو حقیقت کی پہچان عطا کرتی ہے۔ انسان کی اصل فضیلت صرف ظاہری آنکھوں سے دیکھنے میں نہیں، بلکہ صحیح اور غلط، حق اور باطل، دوست اور دشمن کے درمیان فرق کرنے میں ہے۔

مولانا سید عباس باقری نے بصیرت کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا: الْبَصِيرَةُ نُورٌ يَقْذِفُهُ اللَّهُ فِي قَلْبِ الْعَبْدِ يُمَيِّزُ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ

یعنی بصیرت وہ نور ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل میں قرار دیتا ہے، جس کے ذریعے وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھ لینا کوئی بڑا کمال نہیں، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ انسان ان حقائق کو بھی پہچانے جو ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے۔ بہت سے لوگ آنکھوں سے سب کچھ دیکھتے ہیں، لیکن حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس کی وجہ بصیرت کی کمی ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے حدیثِ نبویؐ پیش کرتے ہوئے فرمایا: اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ، فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ

ترجمہ: ’’مومن کی فراست سے ہوشیار رہو، کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔‘‘

مولانا نے کہا کہ اگر انسان کے اندر بصیرت نہ ہو تو اس کے لیے دوست اور دشمن کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے اور وہ حق و باطل کے درمیان تمیز کرنے میں غلطی کرسکتا ہے۔ اسی لیے دینی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی، سیاسی اور تاریخی معاملات میں بھی بصیرت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

صدرِ اسلام کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید عباس باقری نے کہا کہ امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دورِ خلافت میں تین اہم جنگیں، یعنی جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان پیش آئیں۔ ان واقعات میں بعض افراد حق کو پہچاننے میں اس لیے ناکام ہوگئے کہ انہیں دونوں جانب کلمۂ توحید پڑھنے والے، نماز ادا کرنے والے اور قرآنِ مجید کے حافظ نظر آرہے تھے، بعض لوگ میدانِ جنگ تک تو پہنچ گئے تھے، لیکن جب انہوں نے اپنے مقابل لشکر کے سپاہیوں کے ہاتھوں میں اسلامی پرچم دیکھے، ان کی پیشانیوں پر سجدوں کے نشانات دیکھے اور ان کی زبانوں سے کلمۂ حق سنا تو وہ تذبذب کا شکار ہوگئے۔ انہیں یہ خیال آیا کہ جب دونوں طرف مسلمان ہیں تو پھر جنگ کس سے کی جائے؟

بعض افراد تو اسی تذبذب میں اپنی تلواریں چھوڑ کر میدانِ جنگ سے واپس لوٹ گئے اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے مخاطب ہوکر کہنے لگے:

’’اے خلیفۂ رسول! کیا آپ ہمیں مسلمانوں کا قاتل بنانا چاہتے ہیں؟‘‘

یہ کیفیت دراصل بصیرت کی کمی کا نتیجہ تھی۔ ان افراد نے مخالف لشکر کے ظاہری اسلامی شعائر کو تو دیکھا، لیکن اس کے کردار، موقف اور عملی اقدامات کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ظاہری مذہبی علامات سے متاثر ہوگئے اور حق کی حمایت میں ثابت قدم نہ رہ سکے۔

مولانا سید عباس باقری نے اسی تاریخی تناظر میں حضرت عمار بن یاسرؓ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جہاں بعض لوگ مخالف لشکر کے اسلامی پرچم، پیشانیوں پر سجدوں کے نشانات اور زبانوں سے کلمۂ حق سن کر پریشان ہوگئے، وہیں حضرت عمار بن یاسرؓ جیسے صاحبِ بصیرت کو ان ظاہری علامات نے ذرا بھی متزلزل نہیں کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں بیان کیا کہ حضرت عمار بن یاسرؓ نے مخالف لشکر کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے نزدیک جنگِ بدر و احد میں رسولِ اکرمؐ کے مقابل آنے والے مشرکین و کفار اور امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مقابل آنے والوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بدر و احد کے مخالفین کھلے کافر تھے، جب کہ یہ لوگ اسلام کا نقاب اوڑھے ہوئے ہیں۔

مولانا نے کہا کہ یہی اہلِ بصیرت کی نگاہ ہے؛ وہ ظاہری لباس، مذہبی شناخت اور عبادت کی علامتوں سے دھوکا نہیں کھاتے، بلکہ اپنے سامنے موجود صورتِ حال کی حقیقت کو پہچانتے ہیں۔ حضرت عمار بن یاسرؓ کی مثال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی پہچان محض نعروں اور ظاہری اسلامی شعائر سے نہیں، بلکہ بصیرت اور حقیقت شناسی سے ہوتی ہے۔

موجودہ عالمی اور سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا سید عباس باقری نے بعض مسلم ممالک کے سربراہوں کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض مسلم ممالک کے حکمران امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کررہے ہیں، انہیں مختلف طریقوں سے مدد فراہم کررہے ہیں اور ایران کو نقصان پہنچانے اور اسے برباد کرنے کی کوششوں میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حکمرانوں کو بھی عصرِ حاضر کے اہلِ جمل، اہلِ صفین اور اہلِ نہروان کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، جس طرح تاریخِ اسلام میں بعض افراد ظاہری اسلامی علامات کی وجہ سے حقیقت کو پہچاننے میں ناکام رہے، اسی طرح آج بھی بعض لوگ حکمرانوں کے مسلم ہونے، ان کے پرچموں اور ان کے مذہبی دعوؤں کو دیکھ کر ان کے عملی کردار سے صرفِ نظر کرلیتے ہیں۔

مولانا نے واضح الفاظ میں کہا کہ ان کے پرچموں کو نہ دیکھو، بلکہ ان کے کرتوتوں کو دیکھو۔ کسی حکومت یا حکمران کی حقیقت کا تعین صرف اس کی مذہبی شناخت سے نہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کی پالیسیاں کس کے مفاد میں ہیں، وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہے یا ظالموں کی مدد کررہا ہے، اور اس کے عملی اقدامات حق و انصاف کے مطابق ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص صرف یہ دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ دونوں طرف مسلمان ہیں، اس لیے کسی ایک فریق کے حق یا مخالفت میں موقف اختیار نہیں کیا جاسکتا، تو ایسا فیصلہ بصیرت کی کمی کی علامت ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس کون سا پرچم ہے یا وہ کیا نعرہ لگاتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے اعمال اور پالیسیوں کی حقیقت کیا ہے۔

مولانا سید عباس باقری نے کہا کہ بعض لوگ ایران کی مخالفت اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ ایران ایک شیعہ ملک ہے، اور یہ تاثر پیش کیا جاتا ہے کہ شاید اسی وجہ سے بعض مسلم ممالک کے سربراہوں نے ایران کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ملک کی شیعہ شناخت کی وجہ سے اس کی حمایت نہیں کی جاتی تو پھر یہ بھی بتایا جائے کہ کیا فلسطین کے مظلوم عوام شیعہ تھے؟

انہوں نے سوال کیا کہ فلسطین کے مظلوم عوام، خصوصاً معصوم بچوں اور خواتین کے لیے ان مسلم ممالک نے کیا مدد فراہم کی؟ مدد کرنا تو دور کی بات، بعض مسلم ممالک کے حکمرانوں نے فلسطینی بچوں اور عورتوں کے قتل کے ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔

مولانا نے کہا کہ یہیں بصیرت اور بے بصیرتی کا فرق سامنے آتا ہے۔ اگر کوئی شخص ظاہری مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی حکومت کو حق پر سمجھتا ہے، لیکن اس کے عملی کردار، اس کی خارجہ پالیسی اور مظلوموں کے ساتھ اس کے رویّے کو نظرانداز کرتا ہے، تو وہ حقیقت کو سمجھنے میں غلطی کررہا ہے۔

انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر اس کے باوجود کوئی مسلمان ان حکمرانوں کو ان کی ظاہری مسلم شناخت کی بنیاد پر حق پر سمجھتا ہے اور ان کی پالیسیوں کا دفاع کرتا ہے، تو یہ اس کی بے بصیرتی ہے۔ مولانا نے سامعین پر زور دیا کہ وہ تاریخِ اسلام سے سبق حاصل کریں، موجودہ عالمی حالات کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور کسی بھی حکومت یا سیاسی قوت کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اس کے عملی کردار کو معیار بنائیں۔

مولانا سید عباس باقری نے نماز جمعہ کے دوسرے خطبہ کے اختتام پر تمام نمازیوں کے حق میں دعا کروائی۔ انہوں نے تمام علماء، مراجعِ عظام، مومنین و مومنات اور امتِ مسلمہ کی سلامتی و سربلندی کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔

انہوں نے بالخصوص مقامِ معظمِ رہبری حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای حفظہ اللہ اور تمام رزمندگانِ اسلام کی حفاظت و سلامتی کے لیے دعا کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی نابودی کے لیے بھی دعا کی۔

بصیرت کے بغیر حق و باطل کی پہچان ممکن نہیں؛ ظاہری اسلامی نعروں کے بجائے کردار کو دیکھا جائے: مولانا سید عباس باقری

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha